hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1868

.

الطحاوي

1868
Al Tahawi
۱۸۶۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَ : الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِرَائَ ۃَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ فَأَطَالَ الْقِیَامَ وَہُوَ دُوْنَ قِیَامِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ وَہُوَ دُوْنَ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ، غَیْرَ أَنَّ الرَّکْعَۃَ الْأُوْلٰی مِنْہُمَا أَطْوَلُ .
١٨٦٨: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں سورج گہن گیا تو آپ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور طویل قراءت فرمائی پھر خوب طویل رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تر تھا پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تر تھا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر آپ اٹھے اور دوسری رکعت کا قیام اسی طرح فرمایا البتہ اول رکعت کا قیام زیادہ لمبا تھا۔
تخریج : بخاری فی الکسوف باب ٢‘ مسلم فی الکسوف نمبر ٢‘ مسند احمد ٦؍٣٥١‘۔
نماز گرہن کا حکم مالکیہ کے ہاں تو فرض کفایہ ہے اور بقیہ تمام محدثین و فقہاء کے ہاں سنت علی الکفایہ ہے البتہ اس کی کیفیت میں۔
نمبر 1: امام مالک و شافعی و احمد (رح) دو رکوع کہتے ہیں۔
نمبر 2: طاؤس ہر رکعت میں چار رکوع کہتے ہیں۔
نمبر 3: عطاء و قتادہ (رح) ہر رکعت میں تین رکوع کہتے ہیں۔
نمبر 4: سعید بن جبیر (رض) وغیرہ غیر متعین تعداد بتلاتے ہیں۔
نمبر 5: احناف ایک رکوع اور دو سجدے کے ساتھ یہ نماز فجر کی طرح ادا کی جائے۔
مؤقف فریق اوّل : ہر رکعت میں دو رکوع ہوں گے تین صحابہ (رض) سے یہ روایات وارد ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔