۱۸۸۳: لِمَا حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ، قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : (کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِالنَّاسِ فَلَمْ یَکَدْ یَرْکَعُ، ثُمَّ رَکَعَ، فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ، فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ .وَفَعَلَ فِی الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ) .
١٨٨٣: سائب نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کی ہے کہ سورج کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج گہنا گیا آپ لوگوں کو لے کر نماز میں قیام فرمایا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ رکوع نہ کریں گے پھر رکوع کیا پس اتنا طویل رکوع کیا کہ ایسا لگتا تھا کہ اس سے سر نہ اٹھائیں گے پھر آپ نے سر مبارک اٹھایا اتنا طویل قومہ کیا قریب نہ تھا کہ سجد کریں۔ پھر سجدہ کیا تو ایسا لگتا تھا کہ سجدہ سے سر نہ اٹھائیں گے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اس وقت سورج گہن سے صاف ہوچکا تھا۔
تخریج : ابو داؤد فی صلوۃ الکسوف ١١٩٤‘ ترمذی فی صلوۃ الکسوف باب ٤٤‘ نمبر ٥٦٠۔