۱۹۰۶: وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ، عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدِ ڑالْأَنْصَارِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِیْ حَازِمٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُوْدِ ڑ الْأَنْصَارِیَّ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا) فَأُمِرُوْا فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ بِالْقِیَامِ عِنْدَ رُؤْیَتِہِمْ ذٰلِکَ لِلصَّلَاۃِ وَأُمِرُوْا فِی الْأَحَادِیْثِ الْأُوَلِ بِالدُّعَائِ وَالْاِسْتِغْفَارِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَنْجَلِیَ الشَّمْسُ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہُمْ لَمْ یُؤْمَرُوْا بِأَنْ لَا یَقْطَعُوْا الصَّلَاۃَ حَتّٰی تَنْجَلِیَ الشَّمْسُ، وَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ لَہُمْ أَنْ یُطِیْلُوْا الصَّلَاۃَ إِنْ أَحَبُّوْا، وَإِنْ شَائُ وْا قَصَرُوْہَا، وَوَصَلُوْہَا بِالدُّعَائِ حَتّٰی تَنْجَلِیَ الشَّمْسُ .
١٩٠٦: قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مسعود (رض) انصاری سے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ کسی کی موت و پیدائش سے متعلق نہیں جب تم ان کو دیکھو تو ونماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ پس اس ارشاد میں اس وقت نماز کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا جبکہ پہلی روایات میں نماز کے بعد دعا اور استغفار کا بھی حکم ہے ‘ یہاں تک کہ سورج روشن ہوجائے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان کو سورج کے روشن ہونے تک نماز کے نہ توڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس سے دوسری یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ وہ نماز کو چاہیں تو مختصر پڑھ لیں اور اسے دعا کے ساتھ ملائیں یہاں تک کہ سورج روشن ہوجائے۔
تخریج : بخاری فی الکسوف باب ١٣‘ مسلم فی الکسوف نمبر ٢١۔
اس روایت میں نماز کے قیام کا کسوف کے وقت حکم فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلی روایات میں دعا ‘ استغفار ‘ غلام آزاد کرنے کا حکم ہے معلوم ہوا کہ انکشاف آفتاب تک نماز دعا و استغفار میں مشغول رہنا چاہیے اسی وجہ سے طویل نماز زیادہ بہتر ہے اگر مختصر پڑھ کر دعا و استغفار کرتے رہیں تاآنکہ آفتاب چھٹ جائے تو یہ بھی مناسب ہے۔
غلطی کا ازالہ : روایت ملاحظہ ہو۔