۱۹۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاہَکَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : ( تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفْرَۃٍ سَافَرْنَاہَا فَأَدْرَکَنَا وَقَدْ أَرْہَقَتْنَا صَلَاۃُ الْعَصْرِ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلٰی أَرْجُلِنَا فَنَادٰی بِلَالٌ وَیْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا).
١٩١ : عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے ایک سفر میں پیچھے رہ گئے پھر آپ ہمیں آ ملے جبکہ نماز عصر کا وقت قریب ہوگیا اور ہم نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر پانی ملا یعنی مسح کیا (جس سے پاؤں کے بعض حصے خشک رہ گئے) تو حضرت بلال (رض) نے (جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے) دو یا تین مرتبہ پکار کر کہا ان ایڑیوں کے لیے آگ میں جلنا ہے (جو وضو میں خشک رہ گئیں)
اللغات : رھق۔ قریب ہونا
تخریج : ١؍٢٣ بخاری ‘ مسلم ١؍١٢٥