۱۹۱۲: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أَحْمَدَ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ، عَنْ سَمُرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : ذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : ھٰکَذَا صَلَاۃُ الْکُسُوْفِ یُجْہَرُ فِیْہَا بِالْقِرَائَ ۃِ لِأَنَّہَا مِنْ صَلَاۃِ النَّہَارِ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یُجْہَرُ فِیْہَا بِالْقِرَائَ ۃِ، وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَسَمُرَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا لَمْ یَسْمَعَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَلَاتِہٖ تِلْکَ حَرْفًا، وَقَدْ جَہَرَ فِیْہَا لِبُعْدِہِمَا مِنْہُ .فَھٰذَا لَا یَنْفِی الْجَہْرَ ؛ اِذْ کَانَ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہٗ قَدْ جَہَرَ فِیْہَا .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ
١٩١٢: ثعلبہ نے سمرہ سے انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح نقل کی ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسوف کی نماز میں جب آپ کی آواز نہ سنی گئی تو معلوم ہوتا ہے کہ قراءت جہراً نہ تھی اگر ہوتی تو سنی جاتی ہے۔
الجواب : ابن عباس (رض) اور سمرہ بن جندب اصاغر صحابہ (رض) میں سے ہیں اور بچوں کی صفیں آخر میں ہوتی ہیں مجمع کی کثرت کی وجہ سے آواز آخر تک سنائی نہ دیتی تھی۔ پس ان کا حرف نہ سننا عدم جہر کی ہرگز علامت نہیں۔
مؤقف فریق ثانی : کسوف کی نماز میں جہراً قراءت کی جائے گی اور اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل روایات اس بات پر شاہد ہیں۔