hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1915

.

الطحاوي

1915
Al Tahawi
۱۹۱۵: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ حَنَشٍ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیْ کُسُوْفِ الشَّمْسِ وَقَدْ صَلَّیْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا قَدْ رَوَیْنَاہُ مِمَّا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ھٰذَا .
١٩١٥ : حنش نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ نے نماز کسوف شمس ادا فرمائی تو اس میں جہراً قراءت کی۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ ٢؍٤٧٢۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ علی مرتضیٰ (رض) کا جہر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر جہر کرتے دیکھا ورنہ آپ کے فعل کی وہ مخالفت نہیں کرسکتے۔
نوٹ : اس باب میں امام طحاوی (رح) کا رجحان فریق ثانی کی طرف ہے کہ کسوف میں جہراً قراءت ہے مگر یہاں دوسرے ابواب کے خلاف دلائل بہت کم پیش گئے شاید کہ گزشتہ باب کی ان روایات پر اکتفاء کر کے جن میں صحابہ کرام (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سورة بقرہ پڑھنا اور آل عمران پڑھنا مذکور ہے یہاں صرف حضرت عائشہ (رض) کی روایت کو پیش کیا جس میں جہر کا تذکرہ ہے قراءت سننے کا تذکرہ نہیں جبکہ روایت ابن عباس (رض) میں عدم سماع کا صاف تذکرہ ہے۔ فتدبر۔