۱۹۲۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ : ثَنَا فَہْدُ بْنُ حِبَّانَ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ سَہْمِ بْنِ الْمِنْجَابِ، عَنْ قَزَعَۃَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ قَبْلَ الظُّہْرِ، لَا تَسْلِیْمَ فِیْہِنَّ یُفْتَحُ لَہُنَّ أَبْوَابُ السَّمَائِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَقَدْ ثَبَتَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یُتَطَوَّعَ بِأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ بِالنَّہَارِ لَا تَسْلِیْمَ فِیْہِنَّ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ قَوْلُ مَنْ ذَکَرْنَا أَنَّہٗ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ .قَدْ رُوِیَ ھٰذَا أَیْضًا عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ .
١٩٢٣: قزعہ نے قرشع سے ‘ انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھی جائیں جن میں سلام سے فاصلہ نہ ہو تو ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ روایت ثابت کر رہی ہے کہ دن کے وقت چار رکعت ایک سلام سے پڑھنا درست ہے اس سے ان لوگوں کا مؤقف درست ہوگیا جو اس کے قائل ہیں اور متقدمین کی ایک جماعت سے یہ بات مروی ہے۔ یہ حاضر ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی التطوع باب ٧‘ نمبر ١٢٧٠‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٠٥‘ نمبر ١٥٧‘ مسند احمد ٥؍٤١٦‘ بیہقی ٢؍٦٨٧۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوا کہ دن کے نوافل چار رکعت ایک سلام سے جائز ہیں۔