۱۹۲۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (مَنْ کَانَ مُصَلِّیًا مِنْکُمْ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ فَلْیُصَلِّ أَرْبَعًا) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ التَّطَوُّعَ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ الَّذِیْ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہُ ہُوَ أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ لَا یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِسَلَامٍ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ التَّطَوُّعُ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ الَّذِیْ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہُ، رَکْعَتَانِ، کَالتَّطَوُّعِ بَعْدَ الظُّہْرِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
١٩٢٩: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو تم میں سے جمعہ کے بعد پڑھے تو وہ چار رکعت پڑھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا خیال یہی ہے کہ جمعہ کے بعد جن رکعات کو چھوڑا نہیں جاسکتا وہ چار ہیں ان کے مابین سلام سے تفریق نہ کی جائے گی۔ ان کا مستدل یہی روایت ہے ‘ مگر دوسروں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کے بعد جن دو رکعات کو چھوڑنا درست نہیں وہ ظہر کے بعد کی طرح دو رکعت ہیں ان کا استدلال ان روایات سے ہے۔
تخریج : مسلم فی الجمعہ ٦٧؍٦٩‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣٨‘ نمبر ١١٣١‘ ترمذی فی الجمعہ باب ٢٤‘ نمبر ٥٢٣‘ ابن ماجہ فی الصلاۃ نمبر ١٣٢‘ نسائی فی السنن کتاب الجمعہ نمبر ١٧٤٣‘ مسند احمد ٢‘ ٢٤٩؍٤٤٢۔
حاصل روایت یہ ہے جمعہ کے بعد چار رکعت مسنون ہیں ان میں سلام سے فاصلہ نہ ہوگا۔
فریق ثانی : جمعہ کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ ہیں ان کا ترک جائز نہیں۔ جیسا کہ ظہر کی دو سنتیں۔ دلیل یہ روایت ہے۔