۱۹۳۵: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ فَکَانَ یُصَلِّیْ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ أَرْبَعًا فَقَدِمَ بَعْدَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ اِذَا صَلَّی الْجُمُعَۃَ صَلّٰی بَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ وَأَرْبَعًا فَأَعْجَبَنَا فِعْلُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاخْتَرْنَاہُ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ التَّطَوُّعَ الَّذِیْ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہُ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ سِتٌّ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ إِلَّا أَنَّہٗ قَالَ : أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ یُبْدَأَ بِالْأَرْبَعِ ثُمَّ یُثَنّٰی بِالرَّکْعَتَیْنِ لِأَنَّہٗ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ صَلّٰی بَعْدَ الْجُمُعَۃِ مِثْلَہَا عَلٰی مَا قَدْ نُہِیَ عَنْہُ۔
١٩٣٥: ابو عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں عبداللہ آئے تو وہ جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے پھر ان کے بعد حضرت علی (رض) آئے پس جب وہ جمعہ پڑھتے تو اس کے بعد چھ رکعت (دو پہلے پھر چار) ادا کرتے ہم نے تعجب کیا ہمیں ان کا یہ عمل پسند آیا تو ہم نے اسی کو اختیار کرلیا (کیونکہ دونوں کا جامع تھا) جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوافل کی وہ رکعات جن کو جمعہ کے بعد چھوڑنا مناسبت نہیں وہ چھ رکعات ہیں۔ امام ابو یوسف (رح) کا قول بھی یہی ہے۔ البتہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک پہلے چار اور پھر دو رکعت ادا کریں۔ اس لیے کہ طریقہ اس بات سے نہایت دور ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے جمعہ کی مثل دو رکعت سے منع فرمایا ہے۔
تخریج : منفہ ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ٢؍١٣٢۔
حاصل روایات : حضرت علی (رض) کے قول اور فعل سے چھ رکعات کا ثبوت مل رہا ہے پس ثابت ہوا کہ جمعہ کے بعد چھ رکعات ہیں اور یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے مگر وہ پہلے چار رکعت ادا کرتے پھر دو رکعت پڑھنے کو پسند کرتے ہیں۔
حکمت ابو یوسف (رح) :
امام ابو یوسف (رح) کہتے ہیں کہ ایک روایت میں ابن عمر (رض) نے جمعہ کے فوراً بعد وہیں دو رکعت پڑھنے کو جمعہ کو چار رکعت بنانے کے مترادف قرار دیا پس پہلے چار پڑھی جائیں تاکہ تشابہہ ختم ہو پھر دو رکعت ادا کی جائیں۔
حضرت عمر (رض) سے جمعہ کے فوراً بعد دو رکعت کی ممانعت مذکور ہے ملاحظہ ہو۔