hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1937

.

الطحاوي

1937
Al Tahawi
۱۹۳۷: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْن سِیْرِیْنَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقِ ڑ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ لِلصَّلَاۃِ قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا صَلَّیْ قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّیْ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا).
١٩٣٧: عبداللہ بن شقیق عقیلی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی تکبیر افتتاحی بیٹھ کر اور کبھی کھڑے ہو کر کرتے تھے پس جب آپ کھڑے ہو کر شروع کرتے تو کھڑا ہو کر نماز ادا کرتے اور کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر ابتداء کرتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔
تخریج : مسلم فی المسافرین ١٠٥؍١٠٦‘ ١٠٧؍١٠٩‘ نسائی ١؍٢٤٤۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: بیٹھ کر نماز شروع کرنے کے بعد کھڑے ہو کر رکوع کرنے کو ابن سیرین (رح) و اہل ظواہر مکروہ تحریمی کہتے ہیں۔
نمبر 2: دیگر تمام ائمہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
مؤقف فریق اوّل : نماز اگر بیٹھ کر شروع کرچکا تو رکوع کے لیے اس کو اٹھنا جائز نہیں ہے دلیل یہ روایت ہے جو حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے۔