۱۹۴۹: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِی الْوَزِیْرِ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسٰی عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْمَغْرِبَ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ فَلَمَّا فَرَغَ رَأَی النَّاسَ یُسَبِّحُوْنَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ فِی الْبُیُوْتِ) .
١٩٤٩: سعد بن اسحاق نے اپنے باپ اور دادا سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق نقل کیا کہ آپ نے مسجد بنو عبدالاشہل میں نماز مغرب ادا فرمائی جب آپ نے فارغ ہوئے تو لوگوں کو نفلی نماز پڑھتے پایا اس پر آپ نے فرمایا اے لوگو ! یہ (نفلی) نماز گھروں میں پڑھا کرو۔
تخریج : ابو داؤد فی التطوع باب ١٥‘ نمبر ١٣٠٠‘ ترمذی فی ابواب الصلاۃ نمبر ٦٠٤۔
خلاصہ الزام
نمبر 1: مغرب کی دو سنت اور تحیۃ المسجد کے علاوہ مسجد میں سنن و نوافل درست نہیں اس کو ابراہیم نخعی اور سوید بن غفلہ نے اختیار کیا ہے۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ ‘ احمد ‘ شافعی (رح) مسجد میں مناسب ہے بلکہ بعض اوقات اولیٰ ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف : مسجد کی بجائے گھروں میں نوافل کو آپ نے پسندیدہ قرار دیا جس سے ثابت ہوا کہ چند سنن کے علاوہ نوافل مسجد میں درست نہیں۔ دلیل یہ روایات ہیں :