۱۹۶۳: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ أَبِی الْحَارِثِ الْغِفَارِیِّ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَفْتَاہُ عَنْ رَجُلٍ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ کَیْفَ یَصْنَعُ؟ قَالَ : یُتِمُّہَا عَشْرًا .وَقَدْ رُوِیَ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خِلَافُ ھٰذَا الْقَوْلِ .وَسَنَذْکُرُہٗ بَعْدَ ھٰذَا، إِنْ شَائَ اللّٰہُ - تَعَالٰی - وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِالتَّطَوُّعِ بَعْدَ الْوِتْرِ، وَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ نَاقِضًا لِلْوِتْرِ .وَرَوَوْا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٩٦٣: ابو بکرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں ابو حارث غفاری نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے ان سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو شروع رات میں وتر پڑھ لے پھر سو جائے پھر اٹھ جائے تو وہ کیا کرے گا ؟ انھوں نے کہا ان کو ایک ملاکر دس پوری کرے گا۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے اس کے خلاف قول بھی مروی ہے جس کو ہم انشاء اللہ عنقریب ذکر کریں گے۔ دوسرے علماء نے ان سے اس سلسلے میں اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وتروں کے بعد نفل پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں اور اس سے اس کے وتر باطل بھی نہ ہوں گے۔ چنانچہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایات نقل کی ہیں۔
تخریج : مسند طیالسی۔
حاصل روایات : وتر کے بعد نوافل درست نہیں اسی وجہ سے کہ ان کو جفت بنادیا گیا تو وتر دوبارہ پڑھے گئے اگر وتر پہلے کافی ہوتے تو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہ تھی معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے سے وتر باطل ہوگئے اسی وجہ سے دوبارہ پڑھنے پڑے۔
مؤقف فریق دوم : کہ وتروں کے بعد نفل پڑھے جاسکتے ہیں اس سے وتروں کا بطلان لازم نہ آئے گا دلیل یہ ہے۔ روایت نمبر ١۔