hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1976

.

الطحاوي

1976
Al Tahawi
۱۹۷۶: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرِ ڑ الْعَقَدِیُّ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ قَتَادَۃَ وَمَالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ، أَنَّہُمَا سَمِعَا خِلَاسًا، قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ - وَسَأَلَہٗ رَجُلٌ عَنِ الْوِتْرِ - فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأُوْتِرُ ثُمَّ أَنَامُ، فَإِنْ قُمْتُ، صَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ .وَھٰذَا - عِنْدَنَا - مَعْنَیْ حَدِیْثِ ہَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَۃَ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ ؛ لِأَنَّ فِیْ ذٰلِکَ، فَإِذَا قُمْتُ شَفَعْتُ .فَاحْتَمَلَ ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ یَشْفَعُ بِرَکْعَۃٍ کَمَا کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَفْعَلُ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ یُصَلِّی شَفْعًا شَفْعًا .فَفِیْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ مَا قَدْ بُیِّنَ أَنَّ مَعْنَیْ قَوْلِ : " شَفَعْتُ" ، أَیْ صَلَّیْتُ شَفْعًا شَفْعًا، وَلَمْ أَنْقُضَ الْوِتْرَ .
١٩٧٦: خلدس کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر سے سنا اور ایک آدمی نے ان سے وتر کے متعلق سوال کیا تھا تو کہنے لگے میں وتر پڑھ کر سو جاتا ہوں اگر میں بیدار ہوجاؤں تو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہتا ہوں۔ ہمارے نزدیک حضرت ہمام کی روایت کا مفہوم یہی ہے۔ جس کو انھوں نے حضرت قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ جس کو ہم فصل اوّل میں ذکر کر آئے ہیں۔ کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ ” جب میں جاگتا ہوں تو دو دو رکعت پڑھتا ہوں “ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایک رکعت ملا کر شفعہ بنا لیتے جیسا کہ ابن عمر (رض) کرتے تھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ دو دو رکعت کر کے پڑھتا ہوں۔ پس شعبہ (رح) کی روایت میں اس بات کا بیان ہے کہ ان کے قول ” شفعت “ کا معنی یہ ہے کہ میں شفع شفع پڑھتا ہوں اور وتر کو نہیں توڑتا۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٨٣۔
حاصل روایات : : طحاوی (رح) فرماتے ہیں ہمام کی وہ روایت جس کے الفاظ یہ ہیں ” فاذا قمت شفعت “ کا معنی ہمارے ہاں وہی ہے جو اثر نمبر ١٩٧٦ کا ہے۔
نمبر 2: اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ابن عمر (رض) کی طرح ایک رکعت ملا کر وتر کو شفعہ بنا لیتے ہیں۔
نمبر 3: یہ بھی احتمال ہے کہ شفعہ شفعہ پڑھتے رہتے ہیں اور وتروں کو نہیں توڑتے اور شعبہ والی روایت کا مفہوم یہی ہے۔