hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1978

.

الطحاوي

1978
Al Tahawi
۱۹۷۸: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُمْرَانَ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِیْ أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : " لَوْ جِئْتُ بِثَلاَثِ أَبْعِرَۃٍ فَأَنَخْتہَا، ثُمَّ جِئْتُ بِبَعِیْرَیْنِ فَأَنَخْتہمَا، أَلَیْسَ کَانَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ وِتْرًا؟ " ، قَالَ : وَکَانَ یَضْرِبُہُ مَثَلًا لِنَقْضِ الْوِتْرِ .وَھٰذَا - عِنْدَنَا - کَلَامٌ صَحِیْحٌ، وَمَعْنَاہُ أَنَّ مَا صَلَّیْت بَعْدَ الْوِتْرِ مِنَ الْأَشْفَاعِ، فَہُوَ مَعَ الْوِتْرِ الَّذِیْ أَوْتَرْتہ وِتْرًا .
١٩٧٨: عمر بن حکم کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کہنے لگے اگر میں تین اونٹ لا کر بیٹھاؤں پھر دو اور اونٹ لا کر بیٹھا دوں کیا یہ طاق نہ رہیں گے وہ یہ مثال ان لوگوں کے لیے بیان کرتے جو نقض وتر کے قائل ہیں کہ تین وتروں کا وتر ہونا اسی طرح نفل سے باطل نہیں ہوتا جس طرح کہ تین اونٹوں کا طاق ہونا دو اور اونٹ ملانے سے باطل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں یہ کلام درست ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں جتنی جفت رکعات میں وتروں کے ساتھ پڑھوں وہ وتروں کے ساتھ ملا کر بھی طاق رہی ہیں۔ (یعنی وتر باطل نہیں ہوتے)