۱۹۸۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ : (کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ، فَیُسْمِعُ قِرَائَ تَہُ مِنْ وَرَائِ الْحُجَرِ وَہُوَ فِی الْبَیْتِ) .
١٩٨٠: عکرمہ (رض) نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب نماز ادا فرماتے تو آپ کی آواز حجرات کے باہر سنائی دیتی حالانکہ آپ اپنے گھر میں ہوتے تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی التطوع باب ٢٥‘ نمبر ١٣٢٧۔
اس میں دو قول ہیں۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: حسن بصری و علقمہ (رح) کہتے ہیں جہراً قراءت ضروری ہے سراً مکروہ ہے۔
نمبر 2: فقہاء اربعہ اور تمام محدثین ہر دو طرح قراءت کے جواز کے قائل ہیں۔
مؤقف اوّل اور اس کے دلائل : رات کی نماز میں جہراً قراءت لازم ہے مندرجہ ذیل روایات سے ثبوت ملتا ہے۔