۱۹۸۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ : ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِی الْعَلَائِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ، قَالَ : (قَالَتْ أُمُّ ہَانِیٍٔ : إِنِّی کُنْتُ أَسْمَعُ صَوْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلٰی عَرِیْشِی) .قَالَ : أَبُوْ جَعْفَرٍ، فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْقِرَائَ ۃَ فِیْ صَلَاۃِ اللَّیْلِ ھٰکَذَا ہِیَ، وَکَرِہُوا الْمُخَافَتَۃَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : إِنْ شَائَ خَافَتَ، وَإِنْ شَائَ جَہَرَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٩٨٢: یحییٰ بن جعدہ نے اپنی نانی ام ہانی (رض) سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سنا کرتی تھی اس حال میں کہ اپنے چھپر میں سو رہی ہوتی تھی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ رات کی نماز میں قراءت (بلند آواز) سے ہے ان کے ہاں آہستہ آواز سے قراءت رات کو مکروہ ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر چاہے آہستہ آواز سے اور اگر چاہے تو بلند آواز سے قراءت کرے ‘ ہر دو طرح درست ہے۔ ان کی مستدل مندرجہ روایات ہیں۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ کریں۔
اللغات : یرجع آواز تیز اور آہستہ کرنا۔
حاصل روایات : ان روایات سے تہجد کی نماز میں جہراً تلاوت کا ثبوت مل رہا ہے البتہ سراً کی نفی کہیں نہیں ملتی جنہوں نے اس سے استدلال کیا تو انھوں نے فرمایا جب آپ جہراً ہی پڑھتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس میں جہراً ہی قراءت ہے نہ کہ سراً ۔ پس سراً قراءت مکروہ ہوئی۔
مؤقف ِثانی : جہر و سر ہر دو طرح درست ہے جہر کو ترک کرنے میں ذرا کراہیت نہیں۔ دلائل یہ ہیں۔