۱۹۹۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ حُصَیْنٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِی اِبْرَاہِیْمُ عَنْ نَہِیکِ بْنِ سِنَانٍ السُّلَمِیِّ، أَنَّہٗ أَتٰی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَقَالَ : قَرَأْت الْمُفَصَّلَ اللَّیْلَۃَ فِیْ رَکْعَۃٍ .فَقَالَ : ہَذًّا مِثْلَ ہَذِّ الشِّعْرِ، وَنَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فَصَّلَ لِتُفَصِّلُوْا، (لَقَدْ عَلِمْنَا النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ عِشْرِیْنَ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ وَ النَّجْمِ) عَلَی تَأْلِیْفِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، کُلُّ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، وَذَکَرَ " الدُّخَانَ " وَ " عَمَّ یَتَسَائَ لُوْنَ " فِیْ رَکْعَۃٍ .فَقُلْتُ لِاِبْرَاہِیْمَ : أَرَأَیْتُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ، کَیْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ : رُبَّمَا قَرَأْتُ أَرْبَعًا فِیْ رَکْعَۃٍ .
١٩٩٠: ابراہیم بن نھیک بن سنان سلمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں آیا اور ان سے پوچھا کہ میں ایک رکعت میں رات کو مفصل پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا شعر کی طرح جلدبازی کرتا اور ردی کھجور کی طرح حروف کو بکھیرتا ہوگا مفصل تو فصل کے لیے ہے ہم تو ان مثالوں کو جانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیس سورتیں ملاکر پڑھتے مثلاً الرحمن والنجم۔ ابن مسعود (رض) کے جمع شدہ نسخہ میں سورة رحمن و نجم اکٹھی ہیں ہر دو سورتیں ایک ایک رکعت میں اس سلسلہ میں سورة دخان اور عم یتساء لون کا بھی ذکر کیا ہے۔ میں نے ابراہیم سے کہا اس کے علاوہ میں میں کیا کروں ؟ تو کہنے لگے میں بسا اوقات ایک رکعت میں چار سورتیں پڑھ لیتا ہوں۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٠٦‘ مسلم فی المسافرین نمبر ٢٧٥‘ ابن ابی شیبہ ٢؍٢٥٩۔
اللغات : ہذأ جلدی کرنا۔ النشر بکھیرنا۔ الدقل ردی کھجور جو خشک ہو۔