۱۹۹۵: وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ، قَالَا : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْأَسْوَدِ، قَالَا : (جَائَ رَجُلٌ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ : إِنِّیْ قَرَأْت الْمُفَصَّلَ فِیْ رَکْعَۃٍ، فَقَالَ : نَثْرًا کَنَثْرِ الدَّقَلِ، وَہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ لَکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ یَفْعَلُ مَا فَعَلْتُ، کَانَ یُقْرِنُ بَیْنَ کُلِّ سُوْرَتَیْنِ، فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ سُوْرَتَیْنِ، فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ النَّجْمَ وَ الرَّحْمَنَ فِیْ رَکْعَۃٍ، عِشْرُوْنَ سُوْرَۃً، فِیْ عَشْرِ رَکَعَاتٍ) .
١٩٩٥: علقمہ و اسود نے بیان کیا کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ (رض) کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے ایک رکعت میں مفصل پڑھی ہے آپ نے فرمایا ردی کھجور کی طرح حروف کو پھینکتا اور شعر کی طرح جلدی پڑھتا ہوگا لیکن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا نہ کرتے تھے جو تو نے کیا ہے آپ دو سورتوں کو ملاتے اور ہر رکعت میں دو سورتیں پڑھتے اور ہر رکعت میں سورة النجم اور الرحمن بیس سورتیں دس رکعات میں پڑھے۔
تخریج : مسند احمد ١؍٤١٨۔