hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1998

.

الطحاوي

1998
Al Tahawi
۱۹۹۸: وَحَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ سُفْیَانَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ : (حَضَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃَ الْفَتْحِ صَلَاۃُ الصُّبْحِ، فَافْتَتَحَ سُوْرَۃَ الْمُؤْمِنِ، فَلَمَّا أَتٰی عَلٰی ذِکْرِ مُوْسٰی وَعِیْسٰی، أَوْ مُوْسٰی وَہَارُوْنَ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِمْ، أَخَذَتْہُ سَعْلَۃٌ فَرَکَعَ) .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : إِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ لِلسَّعْلَۃِ الَّتِیْ عَرَضَتْ لَہٗ .قِیْلَ لَہٗ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَنَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، بِآیَتَیْنِ مِنَ الْقُرْآنِ، قَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ فِیْ بَابِ الْقِرَائَ ۃِ، فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ .
١٩٩٨: ابو سلمہ بن سفیان نے عبداللہ بن سائب (رض) سے نقل کیا کہ میں فتح مکہ کی صبح نماز صبح میں حاضر ہوا تو آپ نے سورة مؤمن پڑھنا شروع کی جب آپ موسیٰ و عیسیٰ یا موسیٰ و ہارون کے واقعہ پر پہنچے تو آپ پر کھانسی کا غلبہ ہوا پس آپ نے رکوع کیا۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرلے کہ اسی قدر سورت پر رکوع کرنا کھانسی کے باعث تھا۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ آپ نے فجر کی دو رکعتوں میں قرآن مجید کی دو آیات پڑھیں اور یہ بات ہم باب القرأۃ فی رکعتی الفجر میں ذکر کرچکے ہیں۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٠٦‘ مسلم فی الصلاۃ نمبر ١٦٣‘ نسائی فی الافتتاح نمبر ٧٦‘ مسند احمد ٣؍٤١١۔
سوال : اس روایت میں کھانسی کا تذکرہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سورة کا کچھ حصہ کھانسی کی مجبوری سے پڑھا نہ کہ یہ اصل حکم ہے۔
جواب : باب القرأۃ فی رکعتی الفجر میں ہم پہلے ذکر کر آئے کہ آپ فجر کی دو رکعتوں میں قرآن مجید کی دو آیتیں پڑھتے تھے پس یہ عذر کی بات نہیں بلکہ سورة کا بعض حصہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔