۲۰۰۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدِ ڑالْقَطَّانُ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ قُدَامَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ : حَدَّثَتْنِیْ جَسْرَۃُ بِنْتُ دِجَاجَۃَ، أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِقِرَائَ ۃِ بَعْضِ سُوْرَۃٍ فِیْ رَکْعَۃٍ .وَقَدْ ثَبَتَ أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِقِرَائَ ۃِ السُّوَرِ فِی الرَّکْعَۃِ ؛ لِمَا قَدْ ذَکَرْنَا، مِمَّا جَائَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ طُوْلُ الْقِیَامِ) فَذٰلِکَ یَنْفِیْ أَیْضًا مَا ذَکَرَ أَبُو الْعَالِیَۃِ، لِأَنَّہٗ یُوْجِبُ أَنَّ الْأَفْضَلَ مِنَ الصَّلَوَاتِ مَا أُطِیْلَتَ الْقِرَائَ ۃُ فِیْہِ، وَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ إِلَّا بِالْجَمْعِ بَیْنَ السُّوَرِ الْکَثِیْرَۃِ فِیْ رَکْعَۃٍ .وَھٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ مَا رَوَیْنَا عَنْہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ .
٢٠٠١: جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابو ذر (رض) کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے سنا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کسی سورة کا بعض حصہ ایک رکعت میں پڑھ لیا جائے تو اس میں کچھ حرج نہیں اور اس میں بھی کچھ حرج نہیں کہ پوری سورت ایک رکعت میں پڑھی جائے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات مذکور ہوئیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طول قیام کی ترغیب میں روایات آئی ہیں۔ ابوالعالیہ نے جو روایت ذکر کی ہے یہ طول ِ قیام کے منافی ہے۔ افضل ترین نماز لمبے قیام والی ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قراءت کو کئی سورتیں پڑھ کر طویل نہ کیا جائے۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ ابویوسف اور محمد (رح) کا قول ہے اور بن عمر (رض) سے بھی اس روایت کے خلاف روایت موجود ہے جو ہم فصل اوّل میں نقل کر آئے۔ جمع بین السورتین کی روایات یہ ہیں۔
حاصل روایات : ان روایات سے ایک رکعت میں سورة کے بعض حصہ کا پڑھنا ثابت ہوگیا اور یہ بات پہلے روایات سے ثابت کی جاچکی کہ ایک رکعت میں کئی سورتوں کے پڑھنے میں حرج نہیں ہے اور ان کے علاوہ آپ کا یہ ارشاد گرامی معروف ہے کہ افضل الصلاۃ۔۔۔
تخریج : الصلاۃ طول القیام مسلم فی الصلاۃ ١٦٤؍١٦٥۔
اس روایت نے بھی ابوالعالیہ والی روایت کی صاف صاف نفی کردی کیونکہ اس ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ افضل نماز طویل قراءت والی ہے اور طویل قراءت تو کئی سورتوں کو جمع کرنے سے ہی ممکن ہے۔
یہی ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
فریق ثانی کی تائید میں مزید روایات : ابوالعالیہ وغیرہ والی روایات کے خلاف حضرت ابن عمر ‘ عمر ‘ تمیم داری (رض) سے روایات وارد ہیں جو ہم درج کر رہے ہیں۔