hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2012

.

الطحاوي

2012
Al Tahawi
۲۰۱۲: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ : (أَمَّنَا فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَوَصَلَ بِ " سُوْرَۃِ الْفِیْلِ (لِاِیْلَافِ قُرَیْشٍ) فِیْ رَکْعَۃٍ) .وَھٰذَا الَّذِیْ ذَکَرْنَا، مَعَ تَوَاتُرِ الرِّوَایَۃِ فِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَثْرَۃِ مَنْ ذَہَبَ إِلَیْہِ مِنْ أَصْحَابِہٖ، وَمِنْ تَابِعِیْہِمْ، ہُوَ النَّظَرُ، لِأَنَّا قَدْ رَأَیْنَا فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ تُقْرَأُ، وَسُوْرَۃٌ غَیْرُہَا فِیْ رَکْعَۃٍ، وَلَا یَکُوْنُ بِذٰلِکَ بَأْسٌ، وَلَا یَجِبُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، لِأَنَّہَا سُوْرَۃٌ، رَکْعَۃٌ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ مَا سِوَاہَا مِنَ السُّوَرِ، لَا یَجِبُ أَیْضًا لِکُلِّ سُوْرَۃٍ مِنْہُ رَکْعَۃٌ .وَھٰذَا مَذْہَبُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ - رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٠١٢: مغیرہ نے ابراہیم کے متعلق نقل کیا کہ انھوں نے مغرب کی نماز میں ہماری امامت کرائی تو ایک رکعت میں سورة الفیل اور ایلاف پڑھی۔ یہ متواتر روایات جو ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول و عمل اور کثیر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے نقل کیا اور انھوں نے اس پر عمل کیا اور تابعین نے اپنایا یہ قیاس و نظر کا تقاضا ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فاتحہ الکتاب اور اس کے علاوہ کوئی سورت ایک رکعت میں پڑھی جاتی ہے اور اس میں کسی کے ہاں بھی حرج نہیں اور وہ فاتحہ الکتاب کی وجہ سے لازم نہیں ہوئی کیونکہ یہ تو ہر رکعت کی سورت ہے۔ پس اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دیگر سورتوں کا یہی حکم ہو۔ ہر سورت کے لیے ایک رکعت کا ہونا واجب نہ ہو (بلکہ ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھی جاسکیں) یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
حاصل روایات : متواتر روایات اور صحابہ وتابعین کی اکثریت کے عمل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دو سورتوں کا ایک رکعت میں جمع کرنا جائز ہے اس میں کوئی کراہت نہیں۔
نظر طحاوی (رح) :
اگر غور کریں تو عقلی تقاضہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے ہم سورة فاتحہ اور ایک سورة اس کے ساتھ ایک رکعت میں ملاتے ہیں اور اس میں ذرہ بھر حرج نہیں سمجھتے اور نہ فاتحہ الکتاب سے یہ لازم آتا ہے کیونکہ یہ ایک سورة ہے تو اس کے لیے ایک رکعت ضروری ہے اسی طرح باقی سورتوں کے لیے بھی لازم نہیں کہ ہر سورة کے لیے ایک رکعت ہو۔
امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا یہی مذہب ہے۔
نوٹ : اس باب میں دلائل کی ترتیب عجیب ہے کہ دو سورتوں کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے دو ضمنی مسئلے کہ سورة کا بعض حصہ پڑھنے سے بھی نماز میں فرق نہ پڑے گا اور ایک رکعت میں پورا قرآن مجید پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہ ہوگا ان مسائل کی روایات آثار صحابہ وتابعین سے واضح کیا اور آخر میں نظری دلیل بھی پیش کی۔ دراصل جب پورے قرآن مجید کے ایک رکعت میں پڑھنے کا ثبوت مل گیا جو کہ ١١٤ سورتیں ہیں تو دو سورتوں کے جمع کرنے میں کیا قباحت رہی۔ فتدبر ما اعجب فکرہ۔