۲۰۱۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ، قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ وَأَبُو الْأَسْوَدِ، قَالَا : أَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ، عَنْ أَبِی النَّضْرِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (إِنَّ أَفْضَلَ صَلَاۃِ الْمَرْئِ، صَلَاتُہُ فِیْ بَیْتِہٖ إِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ) .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِیْ ذٰلِکَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ بَابِ التَّطَوُّعِ فِی الْمَسَاجِدِ .فَثَبَتَ بِتَصْحِیْحِ مَعَانِی ھٰذِہِ الْآثَارِ، مَا ذَکَرْنَاہُ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَمَّنْ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یُوَافِقُ مَا صَحَّحْنَاہَا عَلَیْہِ .
٢٠١٦ : بشیر بن سعید نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کی فرض نماز کے علاوہ افضل ترین نماز گھر میں ہے۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کے علاوہ دیگر صحابہ کرام (رض) سے بھی یہ روایت ثابت ہے جس کو ہم (باب التطوع فی المساجد) میں ذکر کر آئے ہیں۔ ان آثار کے معانی کی تصحیح کا تقاضا یہ ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ صحابہ کرام سے یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ثابت ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
تخریج : ٢٠١٤ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : خیر صلوۃ المرء فی بیتہ الا المکتوبہ ثابت کررہا ہے کہ افضل نفل نماز گھر میں ہے اور وہ اکیلے پڑھی جائے گی آپ نے ان کو اپنے عمل سے سمجھایا کہ میرے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے سے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے اور زید بن ثابت والی روایت بتلا رہی ہے کہ جو آپ نے گھر میں کیا وہ اس سے افضل ہے (جو مسجد میں کیا) پس گھر میں نفل نماز کا ثواب زیادہ ہونا ثابت ہوا۔