hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 203

.

الطحاوي

203
Al Tahawi
۲۰۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہٗ قَرَأَہَا کَذٰلِکَ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَغْسِلُوْنَ فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ مَا۔
٢٠٣ : قرہ نے حسن بصری سے نقل کیا کہ وہ ارجلکم کو لام کے کسرہ سے پڑھتے تھے۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت سے روایت وارد ہے کہ وہ پاؤں کو دھویا کرتے تھے ان میں سے بعض روایات یہ ہیں۔
حاصل روایات : گزشتہ آٹھ روایات و آثار ارجلکم میں لام کے فتحہ کو اور ٢٠١ سے ٢٠٣ تک تین آثار ارجلکم کی لام پر کسرہ کو ثابت کرتی ہیں۔
نکتہ : امام طحاوی (رح) اس اختلاف قراءت کو نقل کرنے کے بعد پاؤں دھونے والی آٹھ روایات نقل کر کے یہ اشارہ کر رہے ہیں کہ قراءت کے اس اختلاف سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ پاؤں پر مسح کے لیے کسرہ والی روایت سے تائید مل گئی بلکہ وہ کسرہ والی قراءت کا قائل ہونے کے باوجود وہ پاؤں کو دھونے کے قائل ہیں کسی رافضی کے استدلال کی گنجائش نہیں۔