۲۰۴۰: ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَرَأَ السَّجْدَۃَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ فَنَزَلَ فَسَجَدَ‘ وَسَجَدُوْا مَعَہٗ، ثُمَّ قَرَأَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی‘ فَتَہَیَّئُوْا لِلسُّجُوْدِ‘ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی رِسْلِکُمْ إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکْتُبْہَا عَلَیْنَا إِلَّا أَنْ نَشَائَ ‘ فَقَرَأَہَا وَلَمْ یَسْجُدْ‘ وَمَنَعَہُمْ أَنْ یَسْجُدُوْا .
٢٠٤٠: ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ عمر بن خطاب (رض) نے سورة سجدہ منبر پر تلاوت کی یہ جمعہ کا دن تھا پھر اترے اور سجدہ کیا اور سب نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا پھر دوسرے جمعہ تلاوت فرمائی تو سب نے سجدہ کی تیاری کی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا رک جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہم پر فرض نہیں کیا مگر جب کہ ہم قصد کریں پس انھوں نے سورة سجدہ تو پڑھی مگر سجدہ نہ کیا اور سب کو سجدہ سے روک دیا۔
تخریج : بخاری فی ابواب سجودالقرآن باب ١٠۔