hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2062

.

الطحاوي

2062
Al Tahawi
۲۰۶۲: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْخَطِیْبُ‘ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ‘ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ‘ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہٗ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ سُجُوْدِ الْقُرْآنِ‘ فَلَمْ یُعِدْ عَلَیْہِ فِی الْمُفَصَّلِ شَیْئًا .وَھٰذَا - عِنْدَنَا - لَوْ ثَبَتَ‘ لَکَانَ فَاسِدًا‘ وَذٰلِکَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ‘ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ سَجَدَ فِی النَّجْمِ) وَأَنَّہٗ کَانَ حَاضِرًا ذٰلِکَ‘ (وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِیْ (اِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ)۔ ) .وَإِسْلَامُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَلِقَاؤُہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ قَبْلَ وَفَاتِہٖ بِثَلاَثِ سِنِیْنَ‘ وَقَدْ رَوَیْنَا ذٰلِکَ عَنْہُ فِیْ مَوَاضِعِہِ مِنْ کِتَابِنَا ھٰذَا‘ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی فَسَادِ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ أَہْلُ تِلْکَ الْمَقَالَۃِ .وَقَدْ تَوَاتَرَتَ الْآثَارُ أَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسُجُوْدِہٖ فِی الْمُفَصَّلِ .
٢٠٦٢: عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے سجود قرآن کا سوال کیا انھوں نے مفصل میں کسی سجدہ کا شمار نہ کیا۔ اور یہ بات ان سے ہم کئی جگہ اپنی اس کتاب میں نقل کرچکے۔ پس اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہوگئی۔
الجواب نمبر 1: یہ روایت ضعیف ہے جو ثابت ہی نہیں چہ جائیکہ مضبوط و مرفوع روایات کے مقابل حجت بن سکے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہم بیان کر آئے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے النجم میں سجدہ کیا اور ابوہریرہ (رض) اس مجلس میں موجود تھے اور اسی طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذا السماء النشقت میں سجدہ کیا ابوہریرہ (رض) کا اسلام اور ان کی ملاقات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تین سال پہلے کی ہے۔ (یا چار سال پہلے کی ہے)
تو اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہوگئی جو مفصلات میں سجدہ کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں یہ سجدہ نہ تھا صرف مکی زندگی میں تھا۔ نیز اس اثر ابن عباس (رض) کا راوی ابو قدامہ اور مطروراق مجروح راوی ہیں پھر یہ مرفوع روایات کے مقابل ٹھہرنے کے کس طرح قابل ہے۔