۲۰۷ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ قَالَ : أَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ الْمُجْمِرِ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَتَوَضَّأُ مَرَّۃً وَکَانَ اِذَا غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ کَادَ أَنْ یَبْلُغَ نِصْفَ الْعَضُدِ وَرِجْلَیْہِ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ .فَقُلْتُ لَہٗ فِیْ ذٰلِکَ .فَقَالَ أُرِیْدُ أَنَّ أُطِیْلَ غُرَّتِیْ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ( إِنَّ أُمَّتِیْ یَأْتُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنَ الْوُضُوْئِ ، وَلَا یَأْتِیْ أَحَدٌ مِنَ الْأُمَمِ کَذٰلِکَ).
٢٠٧ : ابن المجمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھوتے ہیں جب وہ اپنے بازو دھوتے تھے تو قریب نصف عضو تک دھوتے اور اسی طرح دونوں پاؤں دھوتے تو نصف پنڈلی تک دھوتے میں نے ان سے اس سلسلہ میں عرض کیا تو فرمانے لگے میں یہ چاہتا ہوں کہ قیامت کے دن میرا سفید نشان طویل ہو اس لیے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت قیامت کے دن وضو کی وجہ سے روشن اعضاء والی ہوگی (جیسا ابلق گھوڑوں میں پنج کلیان گھوڑا پہچانا جاتا ہے ‘ امت ان اعضاء وضو کے روشن ہونے سے پہچانی جائے گی) اور کوئی امت بھی اس طرح نہ آئے گی۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٣‘ مسلم فی الطھارۃ روایت ٣٥‘ ترمذی فی الجمعۃ باب ٧٤‘ روایت ٢٨‘ مسند احمد ١؍٢٨٢‘ ٢٩٦‘ ٢؍٣٦٢‘ سنن کبرٰی للبیہقی ١؍٥٧‘