۲۰۷۶: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ أَیُّوْبَ‘ عَنْ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، عَنْ رَجُلَیْنِ‘ کِلَاہُمَا خَیْرٌ مِنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ أَحَدَہُمَا سَجَدَ فِیْ (اِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ) وَفِیْ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) وَکَانَ الَّذِیْ سَجَدَ أَفْضَلَ مِنَ الَّذِیْ لَمْ یَسْجُدْ‘ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عُمَرُ‘ فَہُوَ خَیْرٌ مِنْ عُمَرَ فَھٰذَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ تَوَاتَرَتْ عَنْہُ الرِّوَایَاتُ أَنَّہٗ سَجَدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا فِیْ (اِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ) .وَإِسْلَامُہُ إِنَّمَا کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ‘ فَکَیْفَ یَجُوْزُ أَنْ یُقَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ مَا ہَاجَرَ - لَمْ یَسْجُدْ فِی الْمُفَصَّلِ؟ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سُجُوْدِ الْمُفَصَّلِ أَیْضًا۔
٢٠٧٦: محمد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا انھوں نے دو آدمیوں سے جو دونوں حضرت ابوہریرہ (رض) سے بہتر ہیں کہ ایک نے اذا السماء انشقت اور اقرا باسم ربک میں سجدہ کیا اور جس نے سجدہ کیا وہ اس سے بہتر ہے جس نے سجدہ نہیں کیا اگر وہ عمر نہ ہو وہ تو عمر سے بھی بہتر ہے (یعنی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے متواتر روایات اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ { اذا السمآء انشقت } میں سجدہ کیا اور ان کا مسلمان ہونا مدینہ میں ہے۔ پس یہ کہنا کس طرح جائز ہے کہ آپ نے ہجرت کے بعد مفصلات میں سجدہ نہیں کیا اور حضرت عمرو بن العاص (رض) کی روایت بھی مفصلات میں سجدہ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ثابت کرتی ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
تخریج : نسائی فی السنن اکبرٰی ١٠٣٧؍١٠٣٨۔
حاصل روایات : یہ تمام روایات ابوہریرہ (رض) جو مختلف اسناد سے مروی ہیں یہ مفصلات کے سجدہ کو ثابت کر رہی ہیں پس یہ کہنا کیونکر درست ہے کہ مفصلات میں سجدہ ہجرت سے پہلے تھا ہجرت کے بعد نہیں کیونکہ ابوہریرہ (رض) کا اسلام لانا ہی ٧ ھ یا ٦ ھ کا ہے۔