hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2090

.

الطحاوي

2090
Al Tahawi
۲۰۹۰: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ عَنْ شُعْبَۃَ ؛ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ‘ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ السَّجْدَۃِ فِیْ (صٓ) فَقَالَ : (أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہٖ) .فَبِھٰذَا نَأْخُذُ‘ فَنَرَی السُّجُوْدَ فِیْ (صٓ) تِبَاعًا لِمَا قَدْ رُوِیَ فِیْہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَلِمَا قَدْ أَوْجَبَہُ النَّظَرُ . وَنَرَی السُّجُوْدَ فِی الْمُفَصَّلِ فِیْ (النَّجْمِ) وَ (اِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ) وَ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) لِمَا قَدْ ثَبَتَ فِیْہِ الرِّوَایَۃُ فِی السُّجُوْدِ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَنَرٰی أَنْ لَا سُجُوْدَ فِیْ آخِرِ (الْحَجِّ) لِمَا قَدْ نَفَاہُ مَا ذَکَرْنَاہُ مِنَ النَّظَرِ‘ وََوْضِعُ تَعْلِیْمٍ‘ لَا مَوْضِعُ خَبَرٍ‘ وَمَوَاضِعُ التَّعْلِیْمِ لَا سُجُوْدَ فِیْہَا لِلتِّلَاوَۃِ. وَقَدِ اخْتَلَفَ فِیْ ذٰلِکَ الْمُتَقَدِّمُوْنَ .فَمَا رُوِیَ عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٠٩٠: مجاہد سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سے سجدہ صٓ کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے یہ آیت پڑھی : { فَبِھُدَاھُمْ اقْتَدِہِ } اسی کو ہم اختیار کرتے ہوئے صٓ میں سجدہ تلاوت ہے اوّل اس وجہ سے کہ جناب رسول اللہ سے اسی طرح مروی ہے اور اس بناء پر بھی کہ تقاضہ نظر بھی یہی ہے اور ہمارے ہاں مفصلات میں سورة نجم ‘ سورة انشقاق ‘ سورة اقراء میں سجدہ تلاوت ہے اور یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے اور ہمارے ہاں سورة الحج کے آخر میں دوسرا سجدہ نہیں ہے جیسا کہ قیاس کی روشنی میں اس کی نفی ہوچکی ہے اور یہ بھی بات ہے کہ وہ موقعہ تعلیم ہے خبر کا موقعہ نہیں اور مواقع تعلیم میں سجدہ تلاوت نہیں۔ متقدمین کا اس میں اختلاف ہے۔ روایات درجہ ذیل ہیں۔
تخریج : ترمذی فی ابواب الوتر باب ٥٣‘ نمبر ٥٧٧‘ ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ٢؍٩۔
حاصل کلام :
یہ ہوا کہ ہم ان روایات کو سامنے رکھ کر صٓ میں سجدے کا حکم دیتے ہیں اصل یہ ہے اور نظر بھی بظاہر اس کی مصدق ہے اور بالکل اسی طرح مفصلات میں سورة النجم۔ انشقاق علق میں سجدہ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی روایات اس کو ثابت کرتی ہیں۔ خواہ نظر اس کے موافق نہیں اس کو ترک کرتے ہیں۔
سورة الحج کے سجدہ کا اختلاف :
اور سورة الحج کے آخر میں سجدہ لازم قرار نہیں دیتے کیونکہ وہاں ایک قسم کی روایت موجود نہیں اور بتقاضائے نظر اس کی نفی ہوتی ہے کیونکہ وہ امر کی جگہ ہے جو کہ مواقع تعلیم میں استعمال ہوتا ہے خبر کی جگہ نہیں۔
اختلاف روایت ملاحظہ ہو۔