hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2103

.

الطحاوي

2103
Al Tahawi
۲۱۰۳: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ‘ عَنْ شُعْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا بُدَیْلٌ‘ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ‘ (عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَرْفَعُہٗ، قَالَ : فَضَرَبَ فَخِذِیْ فَقَالَ لِیْ : کَیْفَ أَنْتَ اِذَا بَقِیْتُ فِیْ قَوْمٍ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ وَقْتِہَا ثُمَّ قَالَ لِیْ : صَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا‘ ثُمَّ اُخْرُجْ‘ وَإِنْ کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ فَصَلِّ مَعَہُمْ‘ وَلَا تَقُلْ إِنِّیْ قَدْ صَلَّیْتَ فَلاَ أُصَلِّی) .
٢١٠٣: عبداللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر (رض) سے نقل کیا اور مرفوعاً بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری ران پر ہاتھ مار کر (متوجہ کیا) فرمایا اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہوں گے پھر مجھے فرمایا تم وقت پر نماز ادا کرلینا پھر نکلنا اگر تم مسجد میں ہو اور جماعت کھڑی ہوجائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھو اور یہ مت کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں پس میں نماز نہ پڑھوں گا۔ (یہ زمانہ فتنہ کی ناصحانہ تدبیر بتلائی)
تخریج : مسلم فی المساجد ٢٣٨‘ نسائی فی السنن الکبرٰی کتاب الامامہ والجماعۃ ٩٣٢۔