۲۱۰۵: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ حَبِیْبٍ‘ عَنْ نَاعِمِ بْن أُجَیْلٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ‘ قَالَ : کُنْتُ أَدْخُلُ الْمَسْجِدَ لِصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ‘ فَأَرَی رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ جُلُوْسًا فِیْ آخِرِ الْمَسْجِدِ‘ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ فِیْہِ‘ قَدْ صَلَّوْا فِیْ بُیُوْتِہِمْ .فَہٰؤُلَائِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کَانُوْا لَا یُصَلُّوْنَ الْمَغْرِبَ فِی الْمَسْجِدِ‘ لَمَّا کَانُوْا قَدْ صَلَّوْہَا فِیْ بُیُوْتِہِمْ‘ وَلَا یُنْکِرُ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ غَیْرُہُمْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا .فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ - عِنْدَنَا - عَلٰی نَسْخِ مَا قَدْ کَانَ تَقَدَّمَہُ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لِأَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مِثْلُ ذٰلِکَ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ قَدْ ذَہَبَ عَلَیْہِمْ جَمِیْعًا‘ حَتّٰی یَکُوْنُوْا عَلٰی خِلَافِہٖ‘ وَلٰـکِنْ کَانَ ذٰلِکَ مِنْہُمْ لِمَا قَدْ ثَبَتَ عِنْدَہُمْ فِیْہِ مِنْ نَسْخِ ذٰلِکَ الْقَوْلِ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَیْرِہِ مَا
٢١٠٥: ناعم بن اجیل مولیٰ امّ سلمہ کہتے ہیں کہ میں نماز مغرب کے لیے مسجد میں داخل ہوتا تو میں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کچھ آدمیوں کو دیکھتا کہ وہ مسجد میں پیچھے بیٹھے ہیں اور وہ گھر میں نماز پڑھ کر آئے ہوتے اور لوگ اس وقت نماز میں مشغول ہوتے۔ تو یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو کہ مسجد میں آ کر دوسری بار مغرب کی نماز میں شامل نہ ہوتے بلکہ بیٹھ جاتے وہ گھروں میں نماز پڑھ کر آئے ہوتے تھے۔ ہمارے ہاں تو یہ عمل جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلے قول کے لیے ناسخ ہے۔ کیونکہ یہ درست نہیں کہ آپ کے فرمانے کے باوجود وہ اس کے الٹ چلیں۔ بلکہ ان کے نزدیک اس کا نسخ لازماً ثابت ہوچکا ہو گا اور حضرت ابن عمر (رض) وغیرہ سے یہ بات مروی ہے۔ درج ذیل اثر ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ صحابہ کرام (رض) مغرب کی نماز گھر میں پڑھ کر آتے ادھر اس وقت مسجد میں جماعت ہو رہی ہوتی تھی تو وہ مغرب کی جماعت میں شریک نہ ہوتے پس یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ جو پہلے حکم تھا اس کا نسخ ان کو معلوم ہوچکا تھا تبھی تو وہ جماعت میں شریک نہ ہوتے تھے۔