hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2108

.

الطحاوي

2108
Al Tahawi
۲۱۰۸: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ‘ قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ‘ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ‘ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، قَالَ : (جَائَ سُلَیْکٌ الْغَطَفَانِیُّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ‘ فَقَعَدَ سُلَیْکٌ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ‘ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ ا أَرَکَعْتُ رَکْعَتَیْنِ قَالَ: لَا قَالَ قُمْ فَارْکَعْہُمَا) .
٢١٠٨: ابوالزبیر (رض) نے حضرت جابر (رض) سے نقل کیا کہ سلیک غطفانی جمعہ کے دن آیا جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر خطبہ دے رہے تھے سلیک دو رکعت پڑھنے سے پہلے بیٹھ گئے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے دو رکعت پڑھ لیں اس نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا اٹھو اور پڑھو۔
تخریج : بخاری فی الجمعہ باب ٣٢‘ مسلم فی الجمعہ نمبر ٥٤‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣١‘ نمبر ١١١٥‘ ترمذی فی الجمعہ باب ١٥‘ نمبر ٥١٠‘ نسائی فی السنن الکبرٰی نمبر ١٧٠٤‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٨٧‘ نمبر ١١١٢‘ مسند احمد ٣؍٢٩٧۔
خلاصہ الزام : خطبہ کے وقت آنے والے کو دو رکعت پڑھنا کیسا ہے۔
نمبر 1: امام شافعی و احمد (رح) اس وقت نفل کو مستحب قرار دیتے اور ترک کو مکروہ کہتے ہیں۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ ومالک (رح) دو رکعت کو مکروہ تحریمی کہتے ہیں اور بیٹھنے کو لازم قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف و دلائل : خطبہ کے وقت آنے والے کو تحیۃ المسجد ضروری ہیں ترک مکروہ ہے دلائل کے لیے یہ روایات ہیں۔