hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 212

.

الطحاوي

212
Al Tahawi
۲۱۲ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرِ ڑالْعَقَدِیُّ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ ، فَلَمَّا کَانَ الْفَتْحُ صَلَّی الصَّلَوَاتِ بِوُضُوْئٍ وَاحِدٍ .
٢١٢ : بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے وضو کرتے جس دن مکہ فتح ہوا اس دن آپ نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔ پس یہ درست ہوگیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن بریدہ (رض) والی روایت میں مذکورہ عمل و فضیلت کے حصول کے لیے فرمایا اس بناء پر نہیں کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر واجب و لازم تھا اور حضرت انس (رض) کی روایت بھی مذکورہ قول پر دلالت کرتی ہے۔
تخریج : ترمذی فی الطھارۃ باب ٤٥ روایت ٦١‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٠٠‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٧٢ روایت ٥١٠‘ دامی فی الوضوء باب ٣۔
خلاصہ الزام : مقیم کو ہر نماز کے لیے نیا وضو ضروری ہے اصحاب ظواہر اور شیعہ کا یہی مذہب ہے جبکہ جمہور فقہاء و محدثین اور ائمہ اربعہ کے ہاں مسافر و مقیم کے لیے نیا وضو حصول فضیلت کا باعث ہے۔
امام طحاوی (رح) نے مذہب نمبر ١ میں فریق اول کے دلائل کا تذکرہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل روایات ذکر فرمائیں ہیں۔