hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2134

.

الطحاوي

2134
Al Tahawi
۲۱۳۴: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ الْخَلِیْلِ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مِسْہَرٍ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ صَفْوَانَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ‘ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ وَرِدَائٌ وَنَعْلَانِ‘ وَہُوَ مُتَعَمِّمٌ بِعِمَامَۃٍ‘ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّ قَالَ : (السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ) ثُمَّ جَلَسَ وَلَمْ یَرْکَعْ .
٢١٣٤: ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن صفوان کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن مسجد میں آئے اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور انھوں نے ازار پہنی اور چادر اوڑھ رکھی تھی اور نعل پاؤں میں تھے اور سر پر عمامہ تھا پھر رکن کا استلام کیا اور کہا السلام علیک یا امیرالمؤمنین و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! پھر بیٹھ گئے اور دو رکعت نہ پڑھی۔