۲۱۳۷: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ سُفْیَانَ‘ عَنْ لَیْثٍ‘ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہٗ کَرِہَ أَنْ یُصَلِّیَ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ .فَقَدْ رَوَیْنَا فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّ خُرُوْجَ الْاِمَامِ یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ‘ وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ صَفْوَانَ جَائَ ‘ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ‘ فَجَلَسَ وَلَمْ یَرْکَعْ‘ فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ‘ وَلَا مَنْ کَانَ بِحَضْرَتِہِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَابِعِیْہِمْ .ثُمَّ قَدْ کَانَ شُرَیْحٌ یَفْعَلُ ذٰلِکَ‘ وَرَوَاہُ الشَّعْبِیُّ‘ وَاحْتَجَّ عَلٰی مَنْ خَالَفَہٗ، وَشَدَّ ذٰلِکَ الرِّوَایَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ .ثُمَّ مِنَ النَّظَرِ الصَّحِیْحِ‘ مَا قَدْ وَصَفْنَا‘ فَلاَ یَنْبَغِیْ تَرْکُ مَا قَدْ ثَبَتَ بِذٰلِکَ إِلَیْ غَیْرِہٖ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (اِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمَ الْمَسْجِدَ‘ فَلاَ یَجْلِسُ حَتّٰی یَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ) وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٢١٣٧: سفیان نے لیث انھوں نے مجاہد سے نقل کیا کہ امام کے خطبہ کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ ہم ان آثار میں یہ بیان کرچکے کہ امام کا باہر آنا نماز کو منقطع کردیتا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن صفوان اس وقت آئے جب حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) خطبہ دے رہے تھے ‘ پس وہ بیٹھ گئے اور انھوں نے نماز نفل ادا نہ کی۔ ابن زیبر (رض) نے ان کی اس بات کا انکار نہ کیا اور نہ ہی ان کے پاس جو دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کسی نے انکار کیا اور نہ تابعین نے انکار کیا ‘ پھر شریح اس کو کرتے تھے اور شعبی نے اس کو روایت کیا اور مخالفین پر بطور حجت پیش کیا اور اس روایت کو مرفوع قرار دیا جس کا تذکرہ ہم نے کردیا۔ پھر ہم نے قیاس کو بیان کردیا ‘ پس اس کے ہوتے ہوئے دوسرے کی طرف رجوع درست نہیں۔ پھر اگر کوئی یہ معترج کہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک وہ دو رکعات ادا نہ کرے اور پھر ان روایات مندرجہ ذیل کو ذکر کیا۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٤٥٦۔
حاصل آثار :
ان آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام کا خروج نماز کو قطع کردیتا ہے اور اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خطبہ امام کے وقت دو رکعت نہ پڑھنے والے پر نکیر نہ کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ سب اس وقت میں نماز اور کلام کے انقطاع کے قائل تھے پھر شعبی شریح کے عمل کی تصدیق اور حسن بصری کے عمل پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں اور شریح کے عمل کی تصدیق کر رہے ہیں پھر نظر صحیح کا تقاضا بھی یہ ہے پس جو نقل و عقل دونوں سے ثابت ہو اس کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف جانا مناسب نہیں۔
ایک اہم اشکال :
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرے اب اس میں کسی وقت کی تعیین تو نہیں کی گئی بلکہ عموم ہے۔ روایات ملاحظہ ہوں۔