۲۱۴۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ‘ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ فَلاَ صَلَاۃَ إِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ) .
٢١٤٢: سلیمان بن یسار نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہوجائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ٣٨‘ مسلم فی المسافرین نمبر ٦٣‘ ابو داؤد فی التطوع باب ٥‘ نمبر ١٢٦٦‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ١٩٥‘ نمبر ٤٢١‘ نسائی فی الاقامہ باب ٦٠‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٠٣‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٤٩‘ مسند احمد ٢؍١٣٣۔
خلاصہ الزام
نمبر 1: فرض فجر شروع ہوجائیں سنت کی نیت باندھ چکا تو پڑھ لے نئے سرے سے نیت باندھنا درست نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہے اس کو امام شافعی ‘ احمد اہل ظواہر (رح) نے اختیار کیا۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد ‘ مالک (رح) کے ہاں نیت باندھنا جبکہ نماز ملنے کی امید ہو تو جماعت سے عدم اختلاط والی جگہ میں سنت پڑھنا درست ہے۔
مؤقف فریق اوّل اور دلائل : سنت فجر جماعت کے کھڑے ہوجانے پر نہیں ادا کرسکتا ہے ‘ دلیل یہ روایات ہیں۔