hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2145

.

الطحاوي

2145
Al Tahawi
۲۱۴۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسِ ڑ الْقِتْبَانِیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ فَلاَ صَلَاۃَ إِلَّا الَّتِیْ أُقِیْمَتْ لَہَا) .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ ھٰذَا النَّہْیَ عَنْ أَنْ یُصَلِّیَ غَیْرَہَا فِیْ مَوْطِنِہَا الَّذِیْ یُصَلِّیْ فِیْہِ‘ فَیَکُوْنُ مُصَلِّیْہَا قَدْ وَصَلَہَا بِتَطَوُّعٍ‘ فَیَکُوْنُ النَّہْیُ مِنْ أَجْلِ ذٰلِکَ‘ لَا مِنْ أَجْلِ أَنْ یُصَلِّیَ فِیْ آخِرِ الْمَسْجِدِ‘ ثُمَّ یَتَنَحَّی الَّذِیْ یُصَلِّیْہَا مِنْ ذٰلِکَ الْمَکَانِ‘ فَیُخَالِطُ الصُّفُوْفَ‘ وَیَدْخُلُ فِی الْفَرِیْضَۃِ .وَکَانَ مِمَّا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا۔
٢١٤٥: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہوجائے تو وہی نماز جائز ہے جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے یعنی فرض۔ ممکن ہے کہ اس ممانعت سے مراد یہ ہو کہ جس جگہ یہ نماز پڑھ رہا ہے کوئی دوسری نماز بھی پڑھے ‘ پس اس صورت میں اس کا پڑھنے والا اس کو نوافل سے ملانے والا ہوگیا ‘ تو ممانعت اس جانب سے آگئی نہ اس بناء پر کہ وہ مسجد کی اس جگہ پڑھ کر وہاں سے ہٹ جائے اور صفوف میں مل جل جائے اور فرائض میں شامل ہوجائے۔ پہلے قول والوں نے مزید ان روایات کو بھی مستدل بنایا ہے۔
روایت ہذا کا جواب :
ممکن ہے کہ فلاصلاۃ کی نہی سے مراد یہ ہو کہ جس جگہ نماز پڑھی گئی اس جگہ اور نماز نہ پڑھی جائے تاکہ فرائض کو نوافل سے ملانا لازم نہ آئے تو ممانعت اس لحاظ سے ہے اس بناء پر نہیں کہ وہ مسجد کے آخر میں سنت پڑھے پھر وہاں سے ہٹ کر صفوں میں فرض نماز پڑھے اس کی ممانعت نہیں ہے پس اس روایت سے تو ان کا استدلال ثابت نہیں ہوتا۔