hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2155

.

الطحاوي

2155
Al Tahawi
۲۱۵۵: وَحَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ عَاصِمٍ .فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہُ قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ صَلَّاہُمَا خَلْفَ النَّاسِ وَقَدْ نَہَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہُمَا .فَمِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِلْآخَرِیْنَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہٗ : (کَانَ خَلْفَ النَّاسِ) أَیْ کَانَ خَلْفَ صُفُوْفِہِمْ‘ لَا فَصْلَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہُمْ‘ فَکَانَ شَبِیْہُ الْمُخَالِطِ لَہُمْ‘ فَذٰلِکَ أَیْضًا دَاخِلٌ فِیْ مَعْنَیْ مَا بَانَ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ‘ وَھٰذَا مَکْرُوْہٌ عِنْدَنَا‘ وَإِنَّمَا یَجِبُ أَنْ یُصَلِّیَہُمَا فِیْ مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ‘ ثُمَّ یَمْشِیَ مِنْ ذٰلِکَ الْمَکَانِ إِلٰی أَوَّلِ الْمَسْجِدِ‘ فَأَمَّا أَنْ یُصَلِّیَہُمَا مُخَالِطًا لِمَنْ یُصَلِّی الْفَرِیْضَۃَ‘ فَلاَ .
٢١٥٥: حماد بن زید نے عاصم سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ انھوں نے یہ دو رکعت لوگوں کے پیچھے ادا کیں ‘ حالانکہ جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا تھا۔ ان کے خلاف دوسروں نے یہ جوابی دلیل دی ہے کہ عین ممکن ہے کہ آپ کا ارشاد ” کان خلف الناس “ اس سے مراد ان کی صفوف سے متصل کھڑا ہونا ہو کہ جن میں درمیان میں کوئی فاصلہ نہ رہا ہو۔ پس وہ ان کے ساتھ رل مل جانے والوں کی طرح بن گیا۔ پس یہ روایت بھی ابن ابن بحینہ (رض) والی روایت کے ہم معنی ہوگئی اور ہمارے ہاں یہ مکروہ ہے۔ لازم یہ ہے کہ وہ ان رکعات کو مسجد کے آخری حصہ میں ادا کرلے۔ پھر وہاں سے چل کر مسجد کے اگلے حصہ میں آئے۔ جو شخص فرض کو پڑھنے والا ہو اس کے ساتھ رلا ملا کر نہ پڑھنے والا ہو۔
حاصل روایات و طرزِ استدلال :
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے اس آدمی نے وہ دو رکعت لوگوں کے پیچھے پڑھیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس سے منع فرمایا یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے مسجد میں جب جماعت کھڑی ہوجائے سنت درست نہیں۔
الجواب من الفریق الثانی :
خلف الناس کا مطلب صفوں سے متصل پڑھنا ہے اور اس کو تو ہم بھی غلط گردانتے ہیں یہ مخالطت ہے اور حدیث ابن بحینہ میں جس کو الگ کا حکم ملا یہ بھی ان میں شامل ہے اور ہمارے ہاں سخت مکروہ ہے ہم بھی مسجد کے پچھلے حصہ میں پڑھنے کا کہتے ہیں پھر وہاں سے چل کر مسجد میں جماعت کے ساتھ شامل ہو۔ اگر متصل صفوف میں پڑھے تو یہ جائز نہیں۔