hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2161

.

الطحاوي

2161
Al Tahawi
۲۱۶۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ وَفَہْدٌ‘ قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ‘ قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ بَیْتِہِ‘ فَأُقِیْمَتْ صَلَاۃُ الصُّبْحِ‘ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ وَہُوَ فِی الطَّرِیْقِ‘ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی الصُّبْحَ مَعَ النَّاسِ .فَھٰذَا وَإِنْ کَانَ لَمْ یُصَلِّہِمَا فِی الْمَسْجِدِ‘ فَقَدْ صَلَّاہُمَا بَعْدَ عِلْمِہِ بِإِقَامَۃِ الصَّلَاۃِ فِی الْمَسْجِدِ‘ فَذٰلِکَ خِلَافُ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَلاَ صَلَاۃَ إِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ) إِنْ کَانَ مَعْنَاہُ مَا صَرَفَہٗ إِلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .
٢١٦١: محمد بن کعب کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) اپنے گھر سے نکلے ادھر فجر کی جماعت کھڑی ہوگئی پس آپ نے مسجد میں داخلے سے پہلے دو رکعت راستہ میں ادا فرمائیں پھر مسجد میں داخل ہو کر صبح کی نماز لوگوں کے ساتھ پڑھی۔ یہ ابن عمر (رض) ہیں اگرچہ انھوں نے مسجد میں نماز نہیں پڑھی مگر انھوں نے مسجد میں جماعت کے کھڑے ہوجانے کے بعد ان کو ادا کیا ہو اور یہ طرز عمل حضرت ابوہریرہ (رض) کے اس قول کے خلاف ہے ” اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلوۃ الا المکتوبۃ “ اگر اس کا معنی وہ لیا جائے جس کی طرف پہلے قول والوں نے اشارہ کیا ہے۔
ایک اشکال :
اس روایت ابن عمر (رض) میں تو مسجد سے باہر سنت کا تذکرہ ہے پس یہ تمہاری دلیل نہ بن سکی۔
جواب : اگرچہ یہ سنت کی دو رکعت مسجد کے باہر پڑھی گئیں مگر یہ جان لینے کے بعد پڑھی گئیں کہ جماعت کھڑی ہوگئی ہے پس ابوہریرہ (رض) کی اس روایت کے تو یہ خلاف ہے جو فریق اوّل کی دلیل ہے کہ اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلوۃ الاالمکتوبہ پس اس روایت ابن عمر (رض) نے بتلایا دیا کہ اقامت صلوۃ کا علم ہوجانے کے باوجود مسجد کے باہر سنت ادا کر کے جماعت میں شامل ہوسکتا ہے پس اس اعتبار سے یہ ایک پہلو دلیل بن گئی۔