hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2173

.

الطحاوي

2173
Al Tahawi
۲۱۷۳: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَسَاہُ وَہُوَ غُلَامٌ‘ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ‘ فَوَجَدَہُ یُصَلِّیْ مُتَوَشِّحًا‘ فَقَالَ : أَلَیْسَ لَک ثَوْبَانِ؟ قَالَ : بَلَی‘ قَالَ : أَرَأَیْتُ لَوْ اسْتَعَنْتُ بِک وَرَائَ الدَّارِ‘ أَکُنْتُ لَابِسَہُمَا؟ قَالَ : نَعَمْ .قَالَ : فَاَللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ تَزَّیَّنَ لَہٗ أَمَ النَّاسُ؟ قَالَ نَافِعٌ (بَلْ اللّٰہُ) فَأَخْبَرَہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ نَافِعٌ : قَدِ اسْتَیْقَنْتُ أَنَّہٗ عَنْ أَحَدِہِمَا وَمَا أُرَاہُ إِلَّا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (لَا یَشْتَمِلْ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ اشْتِمَالَ الْیَہُوْدِ‘ مَنْ کَانَ لَہٗ ثَوْبَانِ فَلْیَتَّزِرْ وَلْیَرْتَدِ‘ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ ثَوْبَانِ فَلْیَتَّزِرْ ثُمَّ لِیُصَلِّ) .
٢١٧٣: نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے مجھے کپڑا پہنایا جبکہ میں بچہ تھا پس اسے توشح (دائیں اور بائیں بغل سے نیچے کپڑے کی اطراف گزار کر کندھوں پر ڈال لیں پھر دونوں طرف کے کنارے سینے پر باندھ لیں) کی حالت میں نماز پڑھتے پایا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس دو کپڑے نہ تھے اس نے ہاں میں جواب دیا تو فرمایا کیا گھر کے باہر تمہیں کام بھیجا جائے کیا تو ان دونوں کو پہنے گا اس نے کہا جی ہاں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے کہ اس کے لیے زینت کی جائے یا لوگوں کا ؟ نافع کہتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے پس حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے والد یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بتلائی میرے خیال میں وہ قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہود کی طرح اشتمال (اس طرح کپڑے میں لپٹنا کہ ہاتھ بھی نہ نکل سکیں) جس کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک کو بطور ازار استعمال کرے اور دوسرے کو اوپر اوڑھ لے اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں وہ ازار کے طور پر باندھ لے پھر نماز ادا کرے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٨٢‘ نمبر ٦٣٥۔
جب کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ایک کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
نمبر 1: حضرت مجاہد ‘ ابراہیم (رح) نے اس کو مکروہ تحریمی کہا۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ اور حسن بصری (رح) اس پر کچھ حرج قرار نہیں دیا بس زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی (خلاف ادب) کہا ہے۔
مؤقف اول اور دلائل : دو کپڑوں کی موجودگی میں ایک کپڑے میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔ دلائل یہ ہیں۔