hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2216

.

الطحاوي

2216
Al Tahawi
۲۲۱۶: حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْغَافِقِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ‘ عَنْ أَبِی الْمُنِیْبِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ .فَھٰذَا مِثْلُ ذٰلِکَ‘ وَھٰذَا - عِنْدَنَا - عَلَی الْوُجُوْدِ مَعَہُ لِغَیْرِہِ‘ فَإِنْ کَانَ لَا یَجِدُ غَیْرَہٗ، فَلاَ بَأْسَ بِالصَّلَاۃِ فِیْہِ‘ کَمَا لَا بَأْسَ فِی الثَّوْبِ الصَّغِیْرِ مُتَّزِرًا بِہٖ .فَھٰذَا تَصْحِیْحُ مَعَانِی ھٰذِہِ الْآثَارِ الْمَرْوِیَّۃِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ رُوِیَتْ عَنْ أَصْحَابِہٖ فِیْ ذٰلِکَ آثَارٌ .مِنْہَا
٢٢١٦: ابوالمنیب نے عبداللہ بن بریدہ سے انھوں نے بریدہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی کو نقل کیا ہے۔ یہ ہمارے ہاں اس وقت ہے جبکہ دوسرا کپڑا موجود ہو ‘ اگر دوسرا کپڑا بالکل میسر نہ ہو تو پھر اس میں نماز پڑھ لینے میں چنداں حرج نہیں ہے جیسا چھوغے کو بطور ازار استعمال کرنے میں حرج نہیں۔ یہ ان آثار کے معانی کی تصحیح کا تقاضا اس باب یہی ہے اور صحابہ کرام (رض) کی روایات اس سلسلہ میں تائید کے طور پر درج ذیل ہیں۔
حاصل کلام : یہ اور اسی طرح کی دیگر روایات ہمارے ہاں دوسرے کپڑے کے وجود کے ساتھ ہیں اور اگر اس کے پاس اور کپڑا بالکل نہ ہو تو اس ایک کپڑے میں نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ چھوٹے کپڑے کو بھی بطور ازار باندھ کر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ دوسرا کپڑا موجود نہ ہو۔
آثار کو سامنے رکھ کر ان کی تصحیح و تطبیق کا یہی تقاضا ہے جو اس سلسلہ میں ذکر کردیا۔