hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2220

.

الطحاوي

2220
Al Tahawi
۲۲۲۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِیْ حَازِمٍ‘ قَالَ : (أَمَّنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ یَوْمَ الْیَرْمُوکِ‘ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ‘ قَدْ خَالَفَ بَیْنَ طَرَفَیْہِ‘ وَخَلَفَہُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .) فَفِیْمَا قَدْ رَوَیْنَا عَمَّنْ ذَکَرْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ‘ مَا یُضَادُّ مَا رَوَیْنَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .ثُمَّ قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْآثَارِ الْمُتَقَدِّمَۃِ‘ مَا قَدْ وَافَقَ ذٰلِکَ‘ فَذٰلِکَ أَوْلَیْ أَنْ یُؤْخَذَ بِہٖ، مِمَّا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .وَھٰذَا الَّذِیْ بَیَّنَّا‘ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
٢٢٢٠: قیس بن ابو حازم کہتے ہیں کہ ہمیں خالد بن الولید نے یوم یرموک میں نماز پڑھائی آپ نے ایک کپڑا پہن رکھا تھا اور اس کی دونوں اطراف مخالف سمت میں باندھ رکھی تھیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے والے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ ان آثار میں جو کچھ ہم نے نقل کیا حضرت عمر (رض) سے اس کے خلاف روایت ہے اور پہلے آثار میں جو کچھ ہے اس کے موافق ہے۔ پس ہم اسی کو اولیٰ ہونے کی بناء پر اختیار کرتے ہیں ‘ اور یہ جو ہم نے واضح کیا ہے یہ حضرت امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٢٧٦۔
حاصل کلام : جن اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم نے تذکرہ کیا کہ ایک کپڑے میں نماز درست ہے ان کے متضاد آپ نے حضرت عمر (رض) کی روایت کو پایا جو فریق اوّل نے پیش کی پھر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گزشتہ آثار میں وہ چیز مل گئی جو ان کے قول کے موافق تھی پس اس کو اختیار کرنا اولیٰ ہے فقط اس قول کو لینے سے جو فقط عمر (رض) سے مروی ہے۔
گویا عمر (رض) کے اقوال میں سے وہ قول جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول و عمل کے موافق ہے اس کو لیا جائے گا دوسرا متروک ہوگا۔
یہ جو یہاں تک وضاحت کی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : : اس باب میں نقل آثار پر اکتفاء کیا گیا اور فریق اوّل کے جوابات ساتھ ساتھ نپٹا دیئے گئے اور مسئلہ کی ہر ہر جہت پر روایات اور آثار پیش کئے یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے موجودہ دور میں غیر مقلدین کا خاصا طبقہ بخاری کی بعض روایات کو جو مزاج کے مطابق ہیں لے کر دوسری بخاری کی روایات کو ترک کرتا ہوا پائیں گے۔