۲۲۳۶: حَدَّثَنَا صَالِحٌ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ‘ قَالَ : أَنَا ہُشَیْمٌ‘ قَالَ : أَنَا مَنْصُوْرٌ‘ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ‘ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ وَہِشَامٍ‘ عَنْ حَفْصَۃَ‘ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُخْرُجُ الْحُیَّضَ وَذَوَاتَ الْخُدُوْرِ یَوْمَ الْعِیْدِ فَأَمَّا الْحُیَّضُ فَیَعْتَزِلْنَ وَیَشْہَدْنَ الْخَیْرَ‘ وَدَعْوَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ) وَقَالَ ہُشَیْمٌ : (فَقَالَتْ امْرَأَۃٌ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لِاِحْدَانَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ : فَلْتُعِرْہَا أُخْتُہَا جِلْبَابَہَا) فَلَمَّا کَانَ الْحُیَّضُ یَخْرُجْنَ لَا لِلصَّلَاۃِ‘ وَلٰـکِنْ لَأَنْ یُصِیْبَہُنَّ دَعْوَۃُ الْمُسْلِمِیْنَ‘ احْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْخُرُوْجِ مِنْ غَدِ الْعِیْدِ لَأَنْ یَجْتَمِعُوْا فَیَدْعُوْنَ‘ فَیُصِیْبُہُمْ دَعْوَتُہُمْ‘ لَا لِلصَّلَاۃِ .وَقَدْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ شُعْبَۃُ‘ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ‘ کَمَا رَوَاہُ سَعِیْدٌ وَیَحْیَی‘ لَا کَمَا رَوَاہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ .
٢٢٣٦: حفصہ نے ام عطیہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیض والی عورتوں اور نوجوان پردہ دار خواتین کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیتے حائضات تو نماز سے الگ رہتیں مگر دعاء مسلمین اور دیگر بھلائیوں (وعظ و نصیحت) میں شریک رہتیں۔ ہشیم نے کہا کہ ایک عورت کہنے لگی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر ہمارے پاس اوڑھنی ہو تب بھی نکلنا ضروری ہے فرمایا وہ سہیلی سے عاریۃ مانگ لے۔ (مگر نکلے ضروری) جب کہ حائضہ عورتوں کو دعا کے لیے نکلنے کا حکم فرمایا نہ کہ نماز کے لیے ‘ لیکن مسلمانوں کی دعاؤں میں صرف شمولیت کے لیے۔ اسی طرح احتمال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو عید کے اگلے روز دعا کے لیے جمع ہونے کا حکم فرمایا ہو۔ تاکہ تمام دعا میں شریک ہو سکیں۔ امام شعبہ (رح) نے اس روایت کو ابو بشیر سے سعید و یحییٰ کی طرح روایت کیا ہے اس طرح نہیں جیسے عبداللہ بن صالح (رح) نے نقل کیا ہے۔
تخریج : بخاری فی الصلاۃ باب ١٢‘ حیض باب ٢٣‘ عیدین باب ١٥‘ الحج باب ٨١‘ مسلم فی العیدین نمبر ١٢: ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٤٢١‘ ترمذی فی الجمعہ باب ٣٦‘ نسائی فی الحیض باب ٢٢‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٦٥‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٢٢٢‘ مسند احمد ٦؍١٨٤۔
حاصل کلام : جب حائضہ کو بھی مسلمانوں کی دعاؤں میں شامل کرنے کے لیے نکلنے کا حکم ہے تو یہ احتمال پختہ ہوگیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے دن لوگوں کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ جمع ہو کر دعا کرسکیں اور ان کی دعا سب کو حاصل ہوجائے نماز کے لیے نہیں۔
اس روایت کو شعبہ نے یحییٰ و سعید کی طرح روایت کیا ملاحظہ ہو۔