hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2239

.

الطحاوي

2239
Al Tahawi
۲۲۳۹: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ النَّبِیْلُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ (أَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ : إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ‘ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِدُخُوْلِہِ؟) یَعْنِی الْبَیْتَ .فَقَالَ : لَمْ یَکُنْ یُنْہَیْ عَنْ دُخُوْلِہِ‘ وَلٰـکِنْ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ : أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَیْتَ‘ دَعَا فِیْ نَوَاحِیْہِ کُلِّہَا‘ وَلَمْ یُصَلِّ فِیْہِ شَیْئًا حَتّٰی خَرَجَ‘ فَلَمَّا خَرَجَ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ : ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ) .
٢٢٣٩: ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو کہا کیا تم نے حضرت ابن عباس (رض) کی یہ بات سنی ہے کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم ملا ہے اس کے اندر داخل کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس پر عطاء نے کہا داخل سے روکا بھی نہیں گیا لیکن میں نے ان کو یہ کہتے سنا ہے کہ اسامہ بن زید (رض) نے بتلایا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کی تمام اطراف میں دعائیں کیں اور اس میں کوئی چیز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ باہر تشریف لائے اور نکل کر دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا یہ قبلہ ہے۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت نمبر ٣٩٥۔
خلاصہ الزام :
نمبر 1: بیت اللہ کے اندر امام مالک و احمد (رح) کے ہاں نماز درست نہیں۔
نمبر 2: جبکہ ائمہ احناف کے ہاں نماز درست ہے خواہ فرض ہوں یا نفل۔
مؤقف فریق اوّل و دلائل : بیت اللہ شریف کے اندر نماز درست نہیں دلیل ملاحظہ ہو۔