۲۲۵۱: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا مِسْعَرٌ‘ عَنْ سِمَاکِ ڑ الْحَنَفِیِّ‘ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ : لَا تَجْعَلْ شَیْئًا مِنَ الْبَیْتِ خَلْفَک‘ وَأَتِمَّ بِہٖ جَمِیْعًا وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ : صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ مِثْلُ مَا رَوٰی ابْنُ عُمَرَ عَنْ أُسَامَۃَ وَبِلَالٍ . فَمِنْ ذٰلِکَ۔
٢٢٥١: سماک حنفی نے ابن عباس (رض) سے ارشاد نقل کیا کہ وہ فرماتے بیت اللہ کے کسی حصہ کو اپنے پیچھے مت کرو بلکہ پورے کو سامنے رکھو ! (اور چونکہ بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے پورا کعبہ سامنے نہیں اس لیے اس میں نماز جائز نہیں) مگر یہ ایک قیاس و اجتہاد ہے اور ادھر نص سے ثابت ہے پس جو قول اس کے مطابق ہوگا وہ لیا جائے گا) اور ابن عمر (رض) کے علاوہ دوسروں سے بھی اسی طرح روایت ہے جیسا ابن عمر (رض) نے اسامہ و بلال (رض) سے روایت کی ہیں۔ روایات ذیل میں ہیں۔
سماک کہتے ہیں ابن عمر (رض) کو میں نے فرماتے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں نماز ادا کی۔
تخریج : عزاہ البدر الی الطبرانی۔
دیگر روایات صحابہ (رض) سے تائید :
بہت سے صحابہ کرام نے بھی ابن عمر ‘ اسامہ اور بلال (رض) کی روایات جیسی روایات کی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔