۲۲۵۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ صَفِیَّۃَ‘ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ أُمِّ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِی امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ‘ وَلَّدَتْ عَامَّۃَ أَہْلِ دَارِنَا‘ قَالَتْ : (أَرْسَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ فَقَالَ : إِنِّی کُنْتُ رَأَیْتُ قَرْنَیَ الْکَبْشِ‘ حِیْنَ دَخَلْتُ الْبَیْتَ‘ فَنَسِیْتُ أَنْ آمُرَک أَنْ تَجْمُرَہُمَا فَإِنَّہٗ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَکُوْنَ فِی الْبَیْتِ شَیْئٌ یَشْغَلُ مُصَلِّیًا) .وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٢٥٩: صفیہ ام منصور کہتی ہیں کہ مجھے بنی سلیم کی ایک عورت نے بیان کیا جو ہمارے گھر میں پیدا ہوئی اور پلی وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن طلحہ (رض) کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا میں نے دنبے کے دو سینگ بیت اللہ کے اندر لٹکے دیکھے میں یہ بھول گیا کہ تمہیں کہوں کہ ان کو اتار دو کیونکہ بیت اللہ میں ایسی چیز مناسب نہیں جو کسی نمازی کو مشغول کرے۔ ان سے یہ روایت بھی وارد ہوئی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٩٣‘ نمبر ٢٠٣٠۔
مزید روایت ملاحظہ ہو۔