۲۲۷۱: وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ سَعْدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ فَلاَ تَأْتُوہَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوہَا وَأَنْتُمْ تَمْشُوْنَ وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ‘ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا‘ وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوْا) .
٢٢٧١: سعد بن ابراہیم نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ جب جماعت کھڑی ہوجائے تو دوڑ کر مت آؤ۔ بلکہ چل کر آؤ اور تم پر سکون لازم ہے پس نماز کا جو حصہ پاؤ وہ (امام کے ساتھ) پڑھ لو اور جو (امام سے) رہ جائے اس کو مکمل کرلو۔
: بخاری فی الجمعہ باب ١٨‘ مسلم فی المساجد ١٥١؍١٥٢‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٥٤‘ نسائی فی الامامہ باب ٥٧‘ ابن ماجہ فی المساجد باب ١٤‘ دارمی فی الصلاۃ نمبر ٥٩‘ موطا مالک فی النداء مسند احمد ٢‘ ٢٣٧؍٢٣٨۔