hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2283

.

الطحاوي

2283
Al Tahawi
۲۲۸۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا بَشِیْرُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَیَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ‘ عَنْ طَارِقٍ‘ قَالَ : کُنَّا مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا جُلُوْسًا فَجَائَ آذِنُہٗ فَقَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘ فَقَامَ وَقُمْنَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ‘ فَرَأَی النَّاسَ رُکُوْعًا فِیْ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ‘ فَکَبَّرَ فَرَکَعَ وَمَشَی‘ وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا فَعَلَ .فَإِنْ اعْتَلَّ فِیْ ھٰذَا مُعْتَلٌّ بِأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ إِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ‘ لِأَنَّہٗ صَارَ ہُوَ وَأَصْحَابُہٗ صَفًّا .قِیْلَ لَہٗ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِیْ ذٰلِکَ ۲۲۸۴: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ‘ قَالَ : رَأَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُکُوْعٌ‘ فَمَشَیْ حَتّٰی اِذَا أَمْکَنَہٗ أَنْ یَصِلَ إِلَی الصَّفِّ وَہُوَ رَاکِعٌ‘ کَبَّرَ فَرَکَعَ ثُمَّ دَبَّ وَہُوَ رَاکِعٌ حَتَّی وَصَلَ الصَّفَّ .
٢٢٨٣: طارق کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو اطلاع دینے والا آیا اور اس نے کہا کہ جماعت کھڑی ہونے والی ہے پس آپ اٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھے پس آپ مسجد میں داخل ہوئے تو آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسجد کی اگلی جانب رکوع کی حالت میں ہیں تو انھوں نے رکوع کیا اور چلنے لگے ہم نے بھی اسی طرح کیا۔
: المعجم الکبیر ٩؍٢٧١۔
ایک ضمنی اعتراض :
عبداللہ نے یہ اس لیے کیا کہ وہ اور ان کے شاگرد وہ مستقل صف بن گئے تھے تو صف میں شمول تو ہوگیا۔
جواب : اس بات کا جواب حضرت زید بن ثابت (رض) کی اس روایت سے واضح ہوجائے گا۔
اگر اس روایت میں کوئی معترض یہ علت نکالے کہ عبداللہ نے یہ اس لیے کیا کیونکہ وہ اور ان کے ساتھی مستقل صف بن گئے تھے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا۔ اس سلسلہ میں زید بن ثابت کی روایت بھی آرہی ہے ملاحظہ ہو۔