۲۲۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَصْحَابَ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ تَوَضَّؤُوْا وَصَلُّوا الظُّہْرَ .فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامُوْا لِیَتَوَضَّئُوا فَقَالَ لَہُمْ : ( مَا لَکُمْ ؟ أَحْدَثْتُمْ ؟ ) فَقَالُوْا : لَا ، فَقَالَ : ( الْوُضُوْئُ مِنْ غَیْرِ حَدَثٍ ، لِیُوْشِکَ أَنْ یَقْتُلَ الرَّجُلُ أَبَاہُ ، وَأَخَاہُ ، وَعَمَّہُ ، وَابْنَ عَمِّہٖ ، وَہُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ غَیْرِ حَدَثٍ).
٢٢٩ : حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھیوں نے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی جب عصر کا وقت آیا تو وہ ووضو کے لیے اٹھنے لگے تو ابو موسیٰ اشعری (رض) فرمانے لگے تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں تو کہنے لگے بغیر حدث کے وضو کرنے میں اس قدر اہتمام کرنا اسی طرح کی محرومی ہے کہ جیسا وارث اپنے مورث کو قتل کر کے وراثت سے اپنے کو محروم کرے۔ مثلاً بیٹا باپ کو یا اپنے بھائی یا چچا یا ابن عم کو قتل کر دے وغیرہ۔