hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2290

.

الطحاوي

2290
Al Tahawi
۲۲۹۰: عَلِیَّ بْنَ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ‘ عَنِ الْحَسَنِ‘ عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ‘ قَالَ : (سِرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃٍ‘ أَوْ قَالَ‘ فِیْ سَرِیَّۃٍ‘ فَلَمَّا کَانَ آخِرُ السَّحَرِ عَرَّسْنَا‘ فَمَا اسْتَیْقَظْنَا حَتّٰی أَیْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ‘ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا یَثِبُ فَزَعًا دَہَشًا .فَاسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا مِنْ مَّسِیْرِنَا حَتَّی ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ‘ ثُمَّ نَزَلْنَا فَقَضَی الْقَوْمُ حَوَائِجَہُمْ‘ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ‘ فَصَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ .فَقُلْنَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ أَلَا نَقْضِیْہَا لِوَقْتِہَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الرِّبَا‘ وَیَقْبَلُہٗ مِنْکُمْ) .
٢٢٩٠: حسن سے عمران بن حصین (رض) نے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں چلتے رہے یا سریہ میں چلتے رہے جب سحر کا اختتام ہونے لگا تو ہم نے قیام کیا ہم بیدار نہ ہوئے مگر یہ کہ سورج کی دھوپ نے اٹھایا ہم میں سے ہر ایک گھبراہٹ سے کود کر اٹھتا تھا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اور ہمیں وہاں سے کوچ کا حکم فرمایا ہم چلتے رہے یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا پھر ہم اترے لوگوں نے اپنے ضروری کام انجام دے لیے (کجاوے اتار کر خیمے لگا لئے) پھر آپ نے بلال (رض) کو حکم دیا انھوں نے اذان دی پس ہم نے دو رکعت ادا کیں پھر آپ نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھائی ہم نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! کیا اسے ہم کل اپنے وقت پر قضاء نہ کرلیتے ؟ تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تمہیں اللہ تعالیٰ نے ربا سے منع نہیں کیا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ پھر تم سے قبول کرے۔
: مسلم فی المساجد نمبر ٣١٢‘ نسائی فی المواقیت باب ٥٥‘ مسند احمد ٤؍٤٤١۔