۲۳۱۱: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ ‘ قَالَا : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی الصَّہْبَائِ الْبَاہِلِیُّ‘ قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا یَقُوْلُ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ یَوْمًا مِنَ الْأَیَّامِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہٖ، فَقَالَ لَہُمْ " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ؟ " فَقَالُوْا : بَلَی‘ نَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ .قَالَ : (أَفْلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَنْزَلَ فِیْ کِتَابِہٖ أَنَّ مَنْ أَطَاعَنِیْ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ؟ قَالُوْا : بَلَی‘ نَشْہَدُ أَنَّہٗ مَنْ أَطَاعَک فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ .قَالَ : فَإِنَّ مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ أَنْ تُطِیْعُوْنِیْ‘ وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِیْ أَنْ تُطِیْعُوْا أَئِمَّتَکُمْ‘ فَإِنْ صَلَّوْا قُعُوْدًا‘ فَصَلُّوْا قُعُوْدًا أَجْمَعِیْنَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ‘ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا‘ فَقَالُوْا : مَنْ صَلّٰی بِقَوْمٍ قَاعِدًا‘ مِنْ عِلَّۃٍ‘ صَلَّوْا خَلْفَہُ قُعُوْدًا‘ وَإِنْ کَانُوْا یُطِیْقُوْنَ الْقِیَامَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : بَلْ یُصَلُّوْنَ خَلْفَہُ قِیَامًا‘ وَلَا یَسْقُطُ عَنْہُمْ فَرْضُ الْقِیَامِ‘ لِسُقُوطِہٖ عَنْ إِمَامِہِمْ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرِ ڑ الرَّقِّیُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ .ح .
٢٣١١: سالم کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں ایک دن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا جبکہ اور صحابہ کرام (رض) بھی موجود تھے تو آپ نے ان کو فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی انھوں نے کہا کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سے یہ بات ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت یہ ہے کہ تم اپنے ائمہ کی اقتداء کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بیٹھ کر نماز پڑھو۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص کسی قوم کو بیماری سے نماز پڑھائے تو ان کو بھی اس کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا چاہیے خواہ وہ قیام کی طاقت رکھتے ہوں۔ اس بات میں دوسروں نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور ان سے قیام کی فرضیت اس بناء پر ساقط نہیں ہوسکتی کہ ان کے امام سے ساقط ہوگئی ہے۔ ان کی دلیل یہ ابوبشر رقی والی روایت ہے جو ذیل میں ہے۔
: المعجم الکبیر ١٢؍٣٢١‘ ترمذی باب ١٥٠ نمبر ٣٦١۔
خلاصہ کلام : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام جب عذر سے بیٹھ کر نماز ادا کرے تو اس کی اقتداء کرنے والوں کو اس کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنا چاہیے اگر وہ اس کی مخالفت کریں تو درست نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل : امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں اگر بلاوجہ بیٹھیں گے تو نماز درست نہ ہوگی۔